محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا موسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پر جلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا توڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہے ہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا بیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مرا گویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا ہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہے اے ہم صفیر فائدہ ناحق کے شور کا ساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گر دے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا سوداؔ کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگو آوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا

— محمد رفیع سودا

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دِل بنا سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب مت آشیاں چمن میں مرے متّصِل بنا جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سِل بنا جس تیرگی سے روز ہے عشّاق کا سیاہ شاید اسی سے چہرہٴ خوباں پہ تِل بنا لب زندگی میں کب ملے اُس لب سے اے کلال ساغر، ہماری خاک کو مت کرکے گِل، بنا اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دِل بنا سُن سُن کے عرضِ حال مرا یار نے کہا سودا نہ باتیں بیٹھ کے یاں متّصِل بنا

— محمد رفیع سودا