سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا موسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پر جلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا توڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہے ہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا بیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مرا گویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا ہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہے اے ہم صفیر فائدہ ناحق کے شور کا ساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گر دے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا سوداؔ کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگو آوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بنا کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دِل بنا سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیب مت آشیاں چمن میں مرے متّصِل بنا جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشق بولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سِل بنا جس تیرگی سے روز ہے عشّاق کا سیاہ شاید اسی سے چہرہٴ خوباں پہ تِل بنا لب زندگی میں کب ملے اُس لب سے اے کلال ساغر، ہماری خاک کو مت کرکے گِل، بنا اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گر ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دِل بنا سُن سُن کے عرضِ حال مرا یار نے کہا سودا نہ باتیں بیٹھ کے یاں متّصِل بنا